لفظ ''محمد ﷺ '' پر انگوٹھے چومنے کا ثبوت، محمد مہتاب رضا،
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اذان میں کلمہ شہادت: اشھد ان محمد الرسول اللہ، سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا کیسا؟ جواب : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک اذان میں سن کر انگوٹھے چومنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، دلائل وافرہ درج ذیل (1) جس چیز پر شریعت کی ممانعت وارد نہ ہو اس کی اصل جواز ہے وہ جائز ہوتی ہے
(2) اس پر سلف صالحین کا عمل ہے، خلیفہ اول سیدناصدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ امام حسن رضی اللہ عنہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ بات ثابت ہے اور امام علامہ شمس الدین سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمایا ہے اسی طرح جامع الرموزشرح نقایہ فتاویٰ صوفیہ وغیرہ میں یہ بات نقل کی گئی ہے اور بعض محدثین نے حدیث کو ذکر کرنے کے بعد یہ فرمایا :- بیان کردہ احادیث میں کوئی بھی حدیث درجہ صحت پر فائز نہیں ہے مولانا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے موضوعات کبیرہ میں فرمایا اس بارے میں جو بھی روایت بیان کی گئی ہے ان کا مرفوع ہونا حتمی صحیح نہیں، علامہ اسماعیل رحمہ اللّٰہ علیہ نے فرمایا بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائز نہیں ہے، اصطلاح محدثین میں صحیح کی نفی سےحسن کی نفی نہیں ہوتی ہے یعنی کہ محدثین اگر کسی حدیث کی صحت کی نفی کر دیں تو یہ بات ضروری نہیں کہ وہ حدیث موضوع ہو جائے بلکہ حسن بھی ہو سکتی ہے اسی طرح جس حدیث سے محدثین صحت کی نفی کر دیں تو اس سے وضع کا حکم لگاناصحیح نہیں ہے، (3) تیسری دلیل فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بھی بالاجماع قبول ہے پھر دوسرا یہ کہ اس پر عمل کرنے میں شریعت کے کسی حکم کا ازالہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی کسی سنت کے خلاف ہے، لہذا اس پر عمل کیا جائے گا اورملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی اس فعل کا ثبوت ہے اور اس اس فعل کا ثبوت عمل کو بس ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم پر لازم کرتا ہوں اپنی سنت اور اپنے خلفائے راشدین کی سنت، اسی طرح امام سخاوی نے المقاصد الحسنہ فی الاحادیث الدائرۃ علی السنۃ میں فرماتے ہیں کہ موذن سے اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر انگشتان شہادت کے پورے جانب باطن سے چوم کر آنکھوں پر ملنا اور یہ دعا پڑھنا اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ رضیت باللہ ربا و الاسلام دینا و بمحمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبیا اس حدیث کو دیلمی نے مسند الفردوس میں حدیث سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب اس جناب نے اشھد ان محمدا رسول اللہ کہتے سنا یہ دعا پڑھی اور دونوں کلمے کی انگلیوں کے پورے جانب زیریں سے چوم کر آنکھوں سے لگائے اس پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے اور یہ حدیث اس درجے کو نہ پہنچی جسے محدثین اپنی اصطلاح میں درجہ صحت نام رکھتے ہیں اس طرح اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے تقریبا دس دلائل دیے ہیں یہ پہلی دلیل تھی، مزید دلائل اس کے شرح نقایہ میں ہے، خبردار ہو! بے شک مستحب ہے کہ جب اذان میں پہلی بار اشھد ان محمدا رسول اللہ سنےصلی اللہ علیک یا رسول اللہ کہے اور دوسری بار قرة عینی بک یا رسول اللہ پھر انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں پر رکھ کر کہے اللھم متعنی بالسمع والبصر، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے پیچھے اسے جنت میں لے جائیں گے ایسا ہی کنزالعباد میں بھی ہے پھر یہ کہ علامہ مولانا محمد طاہر فتنی علیہ الرحمہ تکملہ مجمع بحار الانوار میں حدیث کو صرف لا یصح فرما کر لکھتے ہیں اس کے تجربہ کی روایت بکثرت آئی ہے یعنی کہ یہ حدیث اگر صحیح نہیں ہے لیکن محدثین کے اس پر تجربات کی روایت آئی ہے ہیں. مکمل دلیل( منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین) میں نظر فرمائیں
افادہ اول حدیث صحیح نہ ہونے کے یہ معنی نہیں ہے کہ غلط ہے یعنی کہ محدثین کرام اگر کسی حدیث کو یہ فرمانا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے تو اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ وہ غلط وباطل ہے بلکہ صحیح ان کی اصلاح میں ایک اعلی درجے کی حدیث ہے اور اس میں بہت سے شرائط و ضوابط ہیں اگر محدثین کسی حدیث میں ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پاتے تو اسے" یہ حدیث صحیح نہیں ہے"کہتے ہیں کیونکہ صحیح حدیث کا سب سے اعلی درجہ ہے اور موضوع یہ سب سے گھٹیا درجہ ہے جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صحت کی نفی سے حدیث کا حسن ہونا منتفی نہیں ہوتا ہے اسی طرح ملا علی قاری موضوعات کبیرہ فرماتے ہیں محدثین کا قول کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس کی حسن ہونے کی نفی نہیں کرتا ہے تو یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے کہ حدیث کے صحیح نہ ہونے کی نفی کرنے سے حسن کی نفی نہیں ہوتی. تو چہ جائے کہ موضوع یا باطل ٹھہرایا جائے. صحیح اور موضوع دونوں ابتدا اور انتہا کے کناروں پر واقع ہے. سب سے اعلی صحیح اور سب سے بدتر موضوع حدیث ہے. ان دونوں کے درمیان بہت سارے اقسام احادیث ہے جیسا کہ حسن لغیرہ حسن لذاتہ وغیرہ اور یہ نہ بھی ہو توفضائل میں تو ضعیف حدیث بھی قبول ہے. کہنا اس قدر ہے کہ جب صحیح اور موضوع کے درمیان اتنی منزلیں ہیں. تو انکار صحت سے وضع کا حکم لگانا یہ زمین و آسمان کے قلابے ملانا ہے جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا ہے اور امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں عاشورہ میں سرمہ لگانے والی حدیث کے تحت لایصح ھذااحدیث کے بعد فرماتے ہیں میں کہتا ہوں کہ اس کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا غایت یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہو تو آپ نے سنا کہ محدثین کرام نے یہ باقاعدہ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگر محدثین کسی حدیث کو کہے کہ یہ صحیح نہیں ہے تو اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتا کہ یہ موضوع ہے کیونکہ کہاں نفی صحت اور کہاں حکم وضع یعنی کہ اعلی درجے کی نفی سے ادنیٰ درجہ ثا بت نہیں ہوتا مثلا اگر کہا جائے کہ زید بادشاہ نہیں جس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ دانے دانے کا محتاج ہے یا کسی شخص کو کہا جائے کہ فلاں ولی نہیں ہے اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ کافر ہے افادہ دوم جہالت راوی سے حدیث پر کیا اثر پڑتا ہے۔ کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجہول ہونا اگر اثر کرتا ہے تو صرف اس قدر کے اسے ضعیف کہا جائے ناکہ موضوع تفصیل مقام یہ کہ مجہول کے اقسام اور انکے احکام مجہول کی تین قسمیں :- (1) مستور جس کی عدالت ظاہری معلوم ہو اور باطنی کی تحقیق نہیں اس قسم کی روایت صحیح مسلم شریف میں بکثرت ہیں۔ (2) مجہول جس سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہو۔
(3) مجہول الحال جس کی عدالت ظاہر و باطنی کچھ ثابت نہ ہو۔ اس میں اول یعنی مستورتوجمہور محققین کے نزدیک مقبول ہے یہی مذہب امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے اور بقیہ دو یعنی کہ مجہول العین اور مجہول الحال کو بعض اکابرحجت جانتے ہیں اور جمہور اسے ضعف مانتے ہیں امام نووی مقدمہ منہاج فرماتے ہیں مجہول کی کئی اقسام ہیں۔ ایک یہ کہ راوی کی عدالت ظاہر وباطل میں غیر ثابت ہو دوسری قسم عدالت باطناً مجہول مگر ظاہرا معلوم ہو اور یہ مستور ہے اور تیسری قسم مجہول العین ہے پہلی قسم کےبارے میں جمہور کا اتفاق ہے یہ قابل قبول نہیں اور دوسری دو اقسام سے اکثر محقیقین استدلال کرتے ہیں اسی طرح میں ابو طالب مکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض وہ باتیں جن کے سبب راویوں کو ضعیف اور ان کی حدیثوں کو غیر صحیح کہہ دیا جاتا ہے فقہاء علماء کے نزدیک باعث ضعف و جرح نہیں ہوتیں جیسے راوی کا مجہول ہونا. اس لیے کہ اس نے گمنامی پسند کی کہ خود شرع مطہر نے اس کی ترغیب فرمائی. یا اس کے شاگرد کم ہوئے کہ لوگوں کو اس سے روایت کا اتفاق نہ ہوا. بہر حال نزاع اس میں ہے کہ جہالت سرے سے وجوہ طعن سے بھی ہے یا نہیں یہ کوئی نہیں کہتا کہ جس حدیث کا راوی مجہول ہو وہ با طل ہے جیسا کہ مولانا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ فضائل نصف شعبان میں فرماتے ہیں کہ بعض راویوں کا مجہول یا الفاظ بے قاعدہ ہونا یہ نہیں چاہتا کہ حدیث موضوع ہو ہاں ضعیف کہو پھر فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل کیا جاتا ہے خلاصہ یہ کہ سند میں متعدد مجہولوں کا ہونا حدیث میں صرف ضعف پیدا کرتا ہے اور اس کا مرتبہ حدیث منکر سے اعلی ہے ضعیف راوی نے ثقہ راویوں کے خلاف روایت کیا ہو وہ بھی موضوع نہیں تو لہذا یہ حدیث جب ضعیف ہے تو اس کو فضائل اعمال میں قبول کیا جائے گا۔ افادہ سوم حدیث منقطع کا حکم اسی طرح سند کا منقطع ہونا وضع حدیث سے مستلزم نہیں. ہمارے آئمہ کرام جمہور علماء کے نزدیک انقطاع سے صحت و حجیت میں ہی کچھ خلل نہیں ہوتا تو چہ جائے کہ وہ اس کو موضوع ٹھہرایا جائے جیساکہ فتح القدیر میں ہے اسے انقطاع کے بنا پر ضعیف قرار دیا جو کی نقصان دہ نہیں کیونکہ راویوں کے عادل و ثقہ ہونے کے بعد منقطع ہمارے نزدیک مر سل کی طرح ہی ہے اسی طرح امام ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں یہ بات نقصان نہیں دیتی کیونکہ منقطع قبولیت میں مرسل کی طرح ہے جبکہ ثقہ سے مروی ہو اور جو اسے قادح جانتے ہیں وہ بھی صرف ضعیف مانتے نہ کہ موضوع اور فضائل اعمال میں تو ضعیف پر بھی عمل کیا جاتا ہے.
افادہ چہارم حدیث مضطرب بلکہ منکر بلکہ مدرج بھی موضوع نہیں انقطع تو ایک آسان امر ہے اور ان خطا کو صرف بعض نے طعن جانا ہے. حدیث کا مضطرب بلکہ منکر ہونا بھی موضوعیت سے کچھ علاقہ نہیں یہاں تک کہ فضائل مقبول رہے گی اور یہ فرمایا کہ مدرج بھی موضوع نہیں جب کہ مدرج ایسی حدیث جس میں غیر کا کلام ملا ہوا ہو تا ہے تعقبات میں ہے مضطرب حدیث ضعیف کی قسم ہے موضوع نہیں اور اسی میں ہے منکر موضوع کے علاوہ ایک دوسری نوع ہے جو کہ ضعیف کی ایک قسم ہے. اور پھر اسی کتاب میں ہے منکر ضعیف کی قسم ہے اور یہ فضائل میں قابل استدلال ہے. افادہ پنجم جس حدیث میں راوی بالکل مبہم ہو وہ بھی موضوع نہیں. خیر جہالت راوی کا تو یہ حاصل تھا کہ شاگرد ایک یا عدالت مشکوک شخص تو معین تھا کہ وہ فلاں ہے مبہم میں تو اتنا بھی نہیں جیسے حدثنی رجل یا بعض اصحابنا پھر یہ بھی ضعیف ہے موضوع نہیں علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں صرف راوی کا نام معلوم نہ ہونے کی وجہ سے حدیث موضوع کہنے کے مستحق نہیں ہوتی بلکہ مبہم دوسری حدیث کو تقویت دے سکتی ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر فرماتے ہیں تعاقبات میں ایک حدیث کے تحت اس کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام معلوم نہیں. پس اگر وہ ثقہ ہے تو یہ صحیح کے شرائط پر ہے اور اگر وہ ثقہ نہیں تو ضعیف ہے مگر سند مذکور کو تقویت دینے والی ہے
It seems there is something wrong with your internet connection. Please connect to the internet and start browsing again.
AdBlock Detected!
We have detected that you are using adblocking plugin in your browser. The revenue we earn by the advertisements is used to manage this website, we request you to whitelist our website in your adblocking plugin.
Site is Blocked
Sorry! This site is not available in your country.